واشنگٹن،6؍اگست(ایجنسی)امریکی جیلوں میں قید دہشت گردی کے درجنوں مجرمین آئندہ چند برسوں میں رہا ہوجائیں گے جس سے یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ آیا اس سے امریکیوں کو خوفزدہ ہونا چاہیئے۔ لیکن اس سوال کا کوئی جواب ملنا آسان نہیں ہے۔ 9/11 دہشت گرد حملوں کے بعد امریکہ نے کئی حملوں کو ناکام بنانے کی جانفشانی سے محنت کی اور ایسے سینکڑوں افراد کو قید کردیا جو عسکریت پسند گروپوں میں شامل ہوئے تھے یا ان کی مدد کی تھی۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حقیقت پر بہت کم توجہ مرکوز کی گئی کہ اس وقت کیا ہوگا جب یہ مجرمین اپنی قید کی تکمیل کے بعد رہا ہوجائیں گے۔ محابس بیورو کے مطابق ان میں380 قیدی بین الاقوامی دہشت گردی سے تعلق رکھتے ہیں۔ دیگر 83 اندرون ملک دہشت گردی کے مجرم پائے گئے تھے۔ امریکی ایوان نمائندگان کانگریس کی ریسرچ سرویس کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیاہے کہ اندرون ملک پروان چڑھنے والے 50 پرتشدد جہادی جنوری 2017 سے 2026 کے درمیان رہا ہوں گے۔ ایف بی آئی کے سابق ڈائرکٹر جیمس کومی جنہیں صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مئی میں برطرف کردیا تھا کانگریس سے کہا تھا کہ ملک کی تمام 50 ریاستوں میں اسلامک اسٹیٹ اور دیگر انتہاپسندی کی سرگرمیوں سے متعلق 900 واقعات کی سرگرم تحقیقات جاری ہیں۔ اکثر مجرمین قید ہیں چند کو عمر قید بھی دی گئی ہے جو زیادہ سے زیادہ 13سال قید کے بعد رہا ہوجائیں گے۔